سداپور:16؍ مارچ (ایس اؤ نیوز )غیرقانونی طورپر ریت سپلائی کرنےوالی 9لاریوں کو کاروار کےمحکمہ کان کنی اور اراضی کے افسران نے اپنی تحویل میں لئےجانے کا واقعہ سداپور تعلقہ کے نانی کٹا کےقریب پیش آیا ہے۔
اترکنڑا ضلع کے ہوناور سے سرسی کو سپلائی کی جارہی ریت کےمتعلق ملی مصدقہ خبر پر محکمہ کے افسران کی ٹیم نانی کٹا کے قریب چھاپہ مار کر ریت سے لوڈ 9لاریوں کو اپنی تحویل میں لےکر قانونی طورپر کارروائی کی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ہردن ہوناور اور گیرسوپا سے کئی لاریوں کے ذریعے ماوین گونڈی ۔ سداپور روڈ کے ذریعے سرسی کو غیر قانونی طورپر ریت سپلائی ہورہی ہے۔ متعلقہ سپلائی میں محکمہ فوریسٹ اور پولس کے چند افسران بھی ملوث ہونےکا الزام لگایاجارہاہے۔ غیر قانونی ریت سپلائی کو لےکر مقامی سواری ڈرئیور اور عوام مخالفت کرنے کے باوجود متعلقہ افسران خاموش تھے۔ عین موقع پر ملی مصدقہ خبر پر محکمہ کان کنی اور اراضی کی افسر آشا کی قیادت میں سبھاش چندر، منجوناتھ دیواڑیگا پر مشتمل ٹیم نے چھاپہ ماری کرتےہوئے ریت سپلائی کرنےوالی لاریوں کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔ تحویل میں لی گئی ریت لاریوں کو سداپور کے اے پی ایم سی صحن میں رکھ کر قانونی کارروائی کے بعد سداپور پولس کو سونپا ہے۔
محکمہ فوریسٹ اور محکمہ پولس کے چند افسران پر الزام عائد کیا جارہاہےکہ مقامی سواریوں کو افسران کافی ہراساں کرتےہیں۔سرسی ۔ سداپور روڈ پر چلنےو الی سواریوں کے مالکان کا کہنا ہےکہ لاکھوں روپئے قرضہ کے ذریعے خریدی گئی سواریوں کوریت سپلائی کے لئے استعمال کرتےہوئے اپنا گزارہ کرتے ہیں ، انہی سواریوں پر افسران ہزاروں روپیہ کا جرمانہ عائد کرتےہیں۔ جب کہ یہی افسران ہوناور کی سواریوں سے منتھلی لیتےہیں انہی افسران کے سہارے یہ سواریاں بغیر کسی روک ٹوک کے اپنا غیر قانونی کام جاری و ساری رکھے ہونے کا الزام لگایاگیا ہے۔